Header Ads Widget

Responsive Advertisement

اونٹ لائبریری کی دھوم۔ بچوں کو تعلیم دینے کا منفرد انداز

 

پچھلے دوسال سے کرونا کی عالمی وبا کی وجہ سے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ سال کا بیشتر حصہ سکول بند رہنے کی وجہ سے  تعلیم کے حصول کے سکول کا متبادل ڈھونڈنے کی ضرورت سامنے آئی۔ اسی ضرورت کے تحت آن لائن کلاسس کا سلسلہ شروع ہوا اور بہت سارے بچے پہلی بار انٹرنیٹ اور  کمپوٹر سے واقف ہوئے۔ 



بدقسمتی سے پاکستان کا ایک بہت بڑا حصہ آج بھی جدید مواصلات اور انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہے۔ بلوچستان کے بیشتر حصہ موبائل فون اور دوسری جدید سہولیات سے محروم ہے۔  ان علاقوں میں بلوچستان کا سرحدی شہر مند بلو بھی شامل ہے۔ 


جہاں سکول بند ہونے کے بعد بچوں کے لیے تعلم کے حصول کا کوئی متبادل ذریعہ نہ تھا۔ یہی سوال ضلع کیچ کی پسماندہ تحصیل مند بلو سے تعلق رکھنے والی رحیمہ بلوچ کے سامنے بھی تھا۔ رحیمہ بلوچ وفاقی وزیر زبیدہ جلال کی چھوٹی بہن ہیں اور وہ بھی زبیدہ جلال کے ساتھ تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ کے کام کرتی رہی ہیں۔ 
رحیمہ بلوچ بلوچ دیکھ رہی تھی کہ سکولوں کی مسلسل بندش کی وجہ سے بچے کتاب اور تعلیم سے دور ہورہے ہیں۔  بچوں کو دوبارہ تعلیمی سرگرمیاں شروع ہونے تک کتاب اور تعلیم سے جوڑے رکھنے کے رحیمہ کے دل میں موبائل لائبریری کا خیال آیا۔ جس میں ایک گاڑی میں کتابیں رکھ کر کسی بھی گاؤں میں ایک دن یا کچھ گھنٹوں کا عارضی سکول قائم کیا جائے ۔ لیکن یہ بہت زیادہ اخراجات  کا حامل خیال تھا۔  وسائل کو دیکھتے ہوئے خیال آیا کہ کیوں نہ کسی جانور کا استعمال کیا جائے ۔ اس کام کے اونٹ سب بہترین تھا۔ چنانچہ گاؤں کے ایک آدمی کے پاس اونٹ تھا جو جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اس اونٹ کے ذریعے  گھر لا کر بیچتا تھا۔ اس کو راضی کیا گیا کہ وہ ہفتہ میں دو سے تین دن اپنا اونٹ کرایہ پر دے۔   اونٹ پر لائبریری کا خیال لائیبریری کے خیال سے بھی زیادہ منفرد اور دلچسپ تھا۔ 
علم کے نور سے اپنے علاقے کے بچوں کو روشن کرنے کے عمل کا حصہ ہونے کی وجہ سے اونٹ کا نام،، روشن،،  رکھا گیا۔ 
بی بی سی اردو سروس کی رپورٹ کے مطابق رحیمہ بلوچ نے بتایا کہ اونٹ  لائبریری کو نہ صرف عالمی سطح پر  پزیرائی ملی ہے بلکہ پورے علاقے روشن بچوں میں بہت مقبول ہوگیا ہے۔ روشن جب کسی گاؤں میں پہنچتا ہے تو بچے اس کے ساتھ جلوس کی شکل میں شامل ہوجاتے ہیں۔ ہر بچے کی خواہش ہوتی ہے کہ روشن اس کے گھر جا رکے۔ 
روشن پر زیادہ تر بچوں کے لیے کتابیں ہوتی ہیں جن زیادہ تصویروں والی کتابیں ہوتی ہیں۔ اب تو بڑے بھی کتابوں کی ڈیمانڈ کرتے ہیں۔ روشن کسی دیہات میں 3 سے 4 دن کے لیے کتابیں کسی کی نگرانی میں چھوڑ دیتا اور بچے اس کو دیکھتے رہتے ہیں۔ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے